ناظم آباد میں رہائشی پلاٹس پر غیر قانونی کمرشلائزیشن جاری، متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ - Voice Of Soch News

اتوار، 31 مئی، 2026

ناظم آباد میں رہائشی پلاٹس پر غیر قانونی کمرشلائزیشن جاری، متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ

 ناظم آباد میں رہائشی پلاٹس پر غیر قانونی کمرشلائزیشن جاری، متعلقہ اداروں سے فوری کارروائی کا مطالبہ

کراچی: ناظم آباد کے مختلف رہائشی علاقوں میں مبینہ طور پر رہائشی پلاٹس پر غیر قانونی کمرشل تعمیرات اور دکانوں کے قیام کا سلسلہ جاری ہے، جس پر علاقہ مکینوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع اور مقامی شہریوں کے مطابق پلاٹ نمبر 5A-4/33 ناظم آباد نمبر 5، پلاٹ نمبر 3H-12/41 ناظم آباد نمبر 3 اور پلاٹ نمبر 5A-1/27 ناظم آباد نمبر 5 پر رہائشی پلاٹس کو مبینہ طور پر کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے دکانیں نکالی جا رہی ہیں اور شٹر نصب کیے جا رہے ہیں، جس سے علاقے میں پارکنگ، ٹریفک، سیوریج، پانی اور دیگر شہری مسائل میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کے باعث فٹ پاتھ اور پیدل چلنے والوں کی گزرگاہیں متاثر ہوتی ہیں، جبکہ گاڑیوں کی بے ہنگم پارکنگ کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں رہائشی علاقوں کا بنیادی انفراسٹرکچر مزید دباؤ کا شکار ہو جائے گا۔

شہریوں نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، ڈپٹی کمشنر سینٹرل، ڈائریکٹر ایس بی سی اے ضلع سینٹرل، اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مقامات کا فوری معائنہ کر کے اگر کوئی تعمیرات قوانین اور منظور شدہ نقشوں کے خلاف پائی جائیں تو ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ روکا جائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کسی بھی پلاٹ، فلیٹ، دکان یا تعمیر شدہ یونٹ کی خرید و فروخت سے قبل متعلقہ اداروں سے اس کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشہ، این او سی اور تعمیراتی منظوری کی مکمل جانچ ضرور کریں تاکہ مستقبل میں قانونی پیچیدگیوں اور مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد سمیت کراچی بھر میں غیر قانونی تعمیرات اور غیر قانونی کمرشلائزیشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ رہائشی علاقوں کا اصل تشخص برقرار رہے اور شہری مسائل میں مزید اضافہ نہ ہو۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad