ایران میں ہولناک دھماکے کئی لوگوں کی اموات ملک بھر میں کہرام مچ گیا - Voice Of Soch News

اتوار، 22 ستمبر، 2024

ایران میں ہولناک دھماکے کئی لوگوں کی اموات ملک بھر میں کہرام مچ گیا

lebanon explosion,pager explosion in lebanon,lebanon pager explosions,lebanon pager explosion,hezbollah pager explosions,pager explosion lebanon,lebanon explosions,pager explosions,hezbollah pager explosions a major security breach,hezbollah pager explosion,pager blast in lebanon,the watchman with erick stakelbeck,pager explosion in beirut,erick stakelbeck the watchman,israel pager explosion,pager explosion,hezbollah walkie talkie explosion

 ایران کے صوبے خراسان میں کوئلے کی کان میں دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 51 ہوگئی ہے

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ آج جنوبی صوبے خراسان میں پیش آیا ہے۔ کوئلے کی کان میں دھماکے کے وقت کام میں درجنوں افراد موجود تھے جن میں سے ابتدائی طور پر 30 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی تھی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا نے بتایا ہے کہ کوئلے کی کان دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 51 ہوگئی ہے جب کہ اب بھی کئی افراد کان میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق مدانجو کمپنی کے بلاک بی اور سی میں اتوار کی صبح 9 بجے گیس دھماکا ہوا جو بڑے جانی نقصان کا سبب بنا۔

دھماکے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ، سیکیورٹی اور ریسکیو ادارے جائے حادثہ پر پہنچ گئے تھےاور فوری طور پر ہنگامی امدادی سرگرمیاں شروع کرتے ہوئے لاشوں اور زخمیوں کو نکالنے کا کام شروع کر دیا جو اب تک جاری ہے

لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے جب کہ ریسکیو حکام کے مطابق اموات کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے لیے نیویارک جاتے ہوئے ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ انہوں نے حکم دیا ہے کہ پھنسے ہوئے افراد کو بچانے اور ان کے اہل خانہ کی مدد کے لیے تمام کوششیں کی جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

ایران میں کان دھماکے میں یہ واقعہ ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے اب تک سب سے ہولناک واقعہ بتایا جا رہا ہے اس سے قبل 2013 میں کان کنی کے دو الگ الگ واقعات میں 11 کان کن مارے گئے تھے۔ 2009 میں متعدد واقعات میں 20 مزدور مارے گئے جب کہ 2017 میں کوئلے کی کان میں دھماکے سے کم از کم 42 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

Post Top Ad