اسلام آباد (خصوصی رپورٹ)صدر مملکت آصف علی زرداری ملک سے باہر ،بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمیاں محدود ، ایسے حالات میں یوسف رضا گیلانی نے کابینہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا ؟ پیپلز پارٹی کے حوالے سےکئی سوالات موضوع بحث بن گئے ۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور مرکزی رہنماؤں کی جانب سے اتحادی حکومت میں وزارتیں لینے سے انکار کے باوجود صدر آصف علی زرداری کی عدم موجودگی اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی بجائے قائم مقام صدر کے فرائض انجام دینے والے چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی نے صوبے اور مرکز میں مناسب حصہ ملنے کی شرط پر کابینہ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا، بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمیاں غیر فعال ہونے کی حد تک محدود کیوں ہیں اور کیا وہ ملک میں ہی موجود ہیں؟ وزیراعظم سے ملاقات میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے وفاقی بجٹ منظور کرانے کے مرحلے میں ایوان میں حکومت کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کی یقین دہانی کس کے ایماء پر کرائی ہیں، یہ اور اس سے جڑے کئی سوالات موضوع بحث بن رہے ہیں۔
"جنگ " کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی جس نے ابتداء میں ہی وزارتیں نہ لینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اسے احتیاط کہہ لیں یا حکمت عملی کہ صرف آئینی اور پارلیمانی عہدوں تک حکومتی وابستگی رکھنے پر اکتفا کیا تھا تاہم بلآخر اب حکومت میں شمولیت کے فیصلے کا واضح لفظوں میں عندیہ دے دیا ۔ ہرچند کہ حکومت میں شمولیت کا یہ اہم عندیہ سینٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زبانی سامنے آیا اور یہ انکشاف بھی کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ حکومت میں شمولیت پر بات چیت جاری ہے۔
گذشتہ روز لاہور میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اور اس سے قبل وہ قائم مقام صدر کی حیثیت میں فرائض انجام دینے کے دوران اپنی رہائش پر بھی اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر صوبے میں وزارتوں کا مطلوبہ اور مناسب حصہ ملا تو پیپلز پارٹی مریم نواز کی کابینہ میں شامل ہونے پر غور کرسکتی ہے۔
یاد رہے کہ صدر آصف علی زرداری ان دنوں نجی دورے پر بیرون ملک ہیں اس لیے ان کی عدم موجودگی میں یوسف رضا گیلانی جو قائم مقام صدر بھی ہیں انہوں نے ایک ایسی صورتحال میں جب پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے ایسے امکانات کے خبروں کی مسلسل تردید اور انکار کی وضاحتیں آرہی تھیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں وزارتیں نہیں لے گی اور جس کی تردید خود پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور پارٹی کے ترجمان فیصل کنڈی جو اب صوبہ کے پی کے کے گورنر بن چکے ہیں بارہا کر چکے ہیں۔ پارٹی کی جانب سے یوسف رضا گیلانی کی مرکز اور پنجاب میں جگہ دیکھ کر حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کرنے کے بعد کئی سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی سیاسی سرگرمیاں گزشتہ کچھ دنوں سے غیر فعال ہونے کی حد تک محدود ہیں اور یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ملک میں موجود بھی ہیں یا نہیں اور اگر ملک میں ہی موجود ہیں تو یہ تمام گفتگو پارٹی چیئرمین کی حیثیت سے خود انہوں نے کیوں نہیں کی۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں