صوبہ پنجاب کے ضلع پاکپتن میں روڈ پر ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں نے لڑکی کو اس کے رشتہ دار خاندان کی موجودگی میں مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بہاولنگر کا رہائشی شخص اپنی اہلیہ، ایک بیٹے، ایک بیٹی، ایک بہن اور 17 سالہ بھانجی کے ساتھ پاکپتن میں رشتہ داروں سے ملنے روانہ ہوا، یہ لوگ ایک خاندانی دوست کے والد کی وفاقت پر تعزیت کیلئے گاؤں مستقیم جھونکا پہنچے، اس کے بعد وہ پاکپتن کے محلہ عبداللہ شاہ میں ایک اور فیملی سے ملنے گئے جہاں سے رات کے کھانے کے بعد اہل خانہ اپنی گاڑی میں بہاولنگر روانہ ہوئے۔
بتایا گیا ہے کہ واپسی کے دوران ملک رحمو گاؤں کے قریب ان کی کار 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 نامعلوم مسلح ملزمان نے گاؤں کی سڑک پر انہیں روک لیا، ملزمان نے موبائل فون اور کار کی چابیاں چھین لیں اور خواتین کو گاڑی سے اتار کر ان سے نقدی و طلائی زیورات چھین لیے، اس دوران 2 مسلح ملزمان خاندان کے سربراہ کی بھانجی کو سڑک کے کنارے مکئی کے کھیتوں میں لے گئے، لڑکی کا گینگ ریپ کیا، اس مقصد کے لیے ڈاکوؤں کے 2 ساتھیوں نے خاندان کے باقی افراد کو سڑک کنارے یرغمال بنائے رکھا، جس کی وجہ سے لڑکی کی مدد کے لیے پکارنے کے باوجود گھر والے اسے بچانے میں ناکام رہے۔
معلوم ہوا ہے کہ یہ واردات 50 منٹ جاری رہا جس میں 35 منٹ تک تشدد اور گینگ ریپ کیا گیا، تاہم اس دوران لواحقین کی مدد کرنے کے لیے کوئی بھی نہ پہنچا، لڑکی مدد کے لیے پکارتی رہی لیکن کسی نے ان کی مدد نہیں کی، ملزمان نے لواحقین کو 67 ہزار روپے نقدی، 2 موبائل فون اور 70 ہزار روپے کے طلائی زیورات سے محروم کیا، ڈکیتی اور گینگ ریپ کے بعد ملزمان گاڑی کی چابیاں سڑک پر پھینک کر فرار ہوگئے۔
بتایا جارہا ہے کہ خاندان قریبی فارم ہاؤس گیا جس کے مالک نے پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کی، پولیس ایک گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی اور شواہد اکٹھے کیے، متاثرہ لڑکی کو طبی معائنے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پاکپتن منتقل کر دیا گیا، صدر پولیس نے لڑکی کی آنٹی کی شکایت پر 4 نامعلوم ملزمان کے خلاف پی پی سی کی دفعہ 391 اور دفعہ 375 اے کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں